Home / صحت / انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال نوجوان نسل کو نشے کی جانب لے جا رہا ہے۔ نئی تحقیق

انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال نوجوان نسل کو نشے کی جانب لے جا رہا ہے۔ نئی تحقیق

Energy Drinks Drawbacks
نیو یا رک(بی بی سی پاک نیوز): آج کل کولڈ ڈرنکس کا استعمال ایک رواج بن چکا ہے خاص کر یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں نوجوان نسل کولڈ ڈرنک کا بہت زیادہ استعمال کرتی ہے، وہیں ان نوجوانوں میں  انرجی ڈرنکس کا استعمال بھی  بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔بظاہر اسکول و کالج کے طلباء  انرجی ڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انرجی ڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال انسان کو شراب نوشی یا اس جیسے ملتے جلتے دیگر نشے کی جانب راغب کرنے میں مدد دیتا ہے۔
 یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلا کہ جو نوجوان کم عمری میں انرجی ڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ آگے چل کے شراب نوشی جیسی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ماہرین نے 1100 اسکول و وکالج کے طلبہ سے سروے کیا۔ سروے میں شامل طلبہ کی عمریں 21 سے 25 سال کے لگ بھگ تھیں، اور یہ امریکا کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ تھے۔ ماہرین نے ان طلبہ سے پانچ سال تک سروے کیا، اور پھر اس کے نتائج اخذ کیے۔
سروے کے نتائج کے مطابق 51 فیصد طلبہ ایسے تھے، جو انرجی ڈرنکس کا استعمال حد سے زیادہ کرتے تھے، 17 فیصد طلبہ کبھی کبھار جب کہ 20 فیصد طلبہ نے کبھی بھی انرجی ڈرنک استعمال نہیں کیا تھا۔ اخذ کردہ نتائج سے پتہ چلا کہ جو طلبہ حد سے زیادہ انرجی ڈرنکس استعمال کرتے رہے، 5 سال بعد ان میں شراب نوشی کی لت پڑ گئی، تاہم وہ چرس اور ہیروئن جیسی منشیات کے عادی نہیں ہوئے، بلکہ وہ صرف ڈرنکس کے ذریعے منشیات کے عادی بن گئے، جس میں شراب نوشی قابل ذکر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انرجی ڈرنکس صحت پر کیسے اثرات مرتب کرتے ہیں؟
نتائج کے مطابق جن طلبہ نے کبھی انرجی ڈرنکس استعمال ہی نہیں کیا، وہ شراب نوشی سے بھی دور رہے، جب کہ جو طلبہ کبھی کبھار انرجی ڈرنکس استعمال کرتے تھے، وہ بھی شراب نوشی کی جانب کم راغب ہوئے۔ ماہرین نے سروے نتائج میں انرجی ڈرنکس کے استعمال کو شراب نوشی کے لیے راہ ہموار کرنے کے طور پر پیش کیا ہے۔

Check Also

کینسر کے مرض کی جانچ کے لیے ’تشخیصی کِٹ‘ تیار

  برلن: سائنس دانوں نے کینسر کی تشخیص کے لیے ایک کِٹ تیار کرلی ہے جس …