Home / International News Updates. BBC Pakistan News. / سرجیکل سٹرائیک کا مقصد پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم آپ کے خطے میں داخل ہو کر بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔ بھارتی سابق آرمی جنرل

سرجیکل سٹرائیک کا مقصد پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم آپ کے خطے میں داخل ہو کر بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔ بھارتی سابق آرمی جنرل

D S Hooda
نیو دہلی(بی بی سی پاک نیوز): پاکستان میں آزاد کشمیر کے علاقے میں سرجیکل سڑائیک کا انڈین دعویٰ تھیک تھا یا نہیں اس سلسے میں انڈین شمالی آرمی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا (ریٹائرڈ) جن کی زیر نگرانی یہ سٹرائیک کی گئی تھیں کا موقف جانتے ہیں ۔ 
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈی ایس ہوڈا کا کہنا ہے  کہ ’اگر ہم کہیں کہ کشمیر کو فوجی کارروائی سے حل کر لیں گے تو یہ کہنا غلط ہوگا۔ یہ ایک اندرونی تنازع ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔ پاکستان کی بھی بہت حمایت ہے۔ فوج کا رول سکیورٹی کی صورتحال کو اس نہج پر لانا ہے جہاں سے سیاسی سطح پر کارروائی کا آغاز ہو سکے۔‘
انڈین آرمی نے گذشتہ برس ستمبر میں اُڑی کے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے، یہ ’سرجیکل سٹرائیکس‘ جنرل ہوڈا کی ہی نگرانی میں کی گئی تھیں جو اس وقت شمالی آرمی کے کمانڈر تھے۔ پاکستان نے انڈین آرمی کی جانب سے ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔
جنرل ہوڈا نے ’سرجیکل سٹرائیکس‘ اور کشمیر کی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کارروائی سے پہلے بہت صلاح مشورے ہوئے تھے اور ہم اس نتیجے پر پہچنے تھے کہ کوئی باقاعدہ جنگ نہیں چھڑ سکتی، لیکن سوچ سمجھ کر تھوڑا بہت خطرہ مول لینا ضروری ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کشمیر میں ہم ہر صورتحال کے لیے تیار تھے۔ میں آپ کو تفصیلات تو نہیں بتا سکتا لیکن آرمی ہیڈکوراٹر میں کافی بات چیت ہوئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم نے ایک دن اچانک سوچا کہ سٹرائکس کر لیتے ہیں، تیاری کافی دنوں سے چل رہی تھی۔‘
سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے کہا تھا کہ اس کے دور اقتدار میں بھی اس طرح کی کارروائیاں کی گئی تھیں لیکن ان کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا۔ جنرل ہوڈا نے یہ بھی کہا کہ ’ایسا پہلے ہوتا تھا لیکن اس کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا۔ ہم انکار کر سکتے تھے کہ ہم نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے۔۔۔اس مرتبہ فرق یہ تھا کہ حکومت نے اس کا باقاعدہ اعلان کیا۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ اس کارروائی کا فائدہ کیا ہوا، جنرل ہوڈا نے کہا کہ ’بار تھوڑا اونچا سیٹ ہوگیا ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہوگا کہ پاکستان دہشتگردی کی اعانت فوراً روک دے گا، لیکن ہم یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم آپ کے خطے میں داخل ہو کر بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے اس کارروائی کو تسلیم ہی نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اسے چھپانا چاہتے تھے۔ یہ ہمارے لیے ایک طرح کی نفسیاتی اور اخلاقی کامیابی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ہر صورتحال مختلف ہوتی ہے اور ہر حملے کے جواب میں سرحد پار کارروائی ہی کی جائے یہ ضروری نہیں ’ہوسکتا ہے کہ ایسی کارروائی دوبارہ ہو، ہوسکتا ہے کہ کسی اور انداز میں ہو۔‘
وادی میں گذشتہ کچھ عرصے سے مقامی لوگوں نے فوج کی کارروائی کے دوران پتھراؤ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے بارے میں جنرل ہوڈا نے کہا کہ ’یہ بہت بڑا درد سر ہے۔ فوجی آپریش کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کیونکہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ عام شہری مارے جائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ماضی میں کئی مرتبہ ایسے حالات آئے ہیں جب وادی میں کافی امن تھا لیکن حکومتوں نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ جنرل ہوڈا کے مطابق حکومت کو یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ’وہ کشمیری عوام کے خلاف ہے‘۔

Check Also

ہتھیار ڈالنے والے81عسکریت پسندوں کی پاک فوج کے زیراہتمام اصلاحی تربیت مکمل

خیبر ایجنسی: ہتھیار ڈالنے والے 81 عسکریت پسندوں نے پاک فوج کے زیر اہتمام صباؤن سینٹر میں …