Home / صحت / ہیپاٹائٹس کے مرض میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی مبتلاء ہیں – عالمی ادارہ صحت

ہیپاٹائٹس کے مرض میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی مبتلاء ہیں – عالمی ادارہ صحت

Hepatitus
اسلام آباد(بی بی سی پاک نیوز): ہیپاٹائٹس کا مرض اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ پوری دنیا  میں اس وقت ہیپاٹائٹس کےتقریباً پینتیس کروڑ کے لگ بھگ مریض ہیں۔ جن میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی بھی شامل ہیں، یہ تعداد پاکستان کی  آبادی کا سات فیصد بنتا ہے۔ یہ موذی  مرض تقریباً ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں  پاکستانیوں کی جان لے لیتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے  مطابق ہیپاٹائٹس کے مرض کی کل  پانچ قسمیں ہیں، جو ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای کہلاتی ہیں۔ سب سے عام اور خطر ناک قسمیں ہیپاٹائٹس بی اور سی ہیں۔ اس سال  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے  مطابق عالمی سطح پر صرف ہیپاٹائٹس بی اور سی کے شکار انسانوں کی تعداد ہی 32 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ شہریوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ یا پندرہ ملین کے قریب ہے، جن میں سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد چودہ ملین ہے۔مجموعی طور پر ایک وائرس کی وجہ سے لگنے والا اور اکثر دائمی شکل اختیار کر جانے والا یہ مرض دراصل جگر کی ایک بیماری ہے، جس کے ہاتھوں سن دو ہزار پندرہ میں پوری دنیا میں تقریبا چودہ لاکھ انسان ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض ہر ماہ ہزاروں شہریوں کی جان لے لیتا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق سوا لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ کے درمیان بنتی ہے۔
بین الاقوامی اور پاکستانی طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں جو کئی سو ملین انسان اس مرض کا شکار ہیں، ان میں سے نوے فیصد سے زائد کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی یا ای کی وجہ بننے والے وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے مریضوں کے اپنے مرض سے لاعلم ہونے کی شرح عالمی شرح سے مختلف نہیں۔ اسی لیے ایسے مریض سالہا سال تک اپنے جسم میں یہ وائرس لیے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔
 پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال فاروقی نے بتایا کہ  پاکستان میں اس مرض کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ پروفیسر فاروقی کے مطابق  ہیپاٹائٹس کی پانچ میں سے دو قسمیں یعنی سی اور بی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور ان کے علاج کے لیے کم ازکم بھی تیس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروقی نے کہا، ’’پاکستان میں یقینی طور پر ایک کروڑ سے زائد شہری صرف ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض ہیں۔ اس تعداد میں ہر سال دو لاکھ  مریضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ مرض دوران حمل ماں سے بچے کو بھی منتقل ہو جاتا ہے اور اس کے وبائی پھیلاؤ کی دیگر بڑی وجوہات میں آلودہ پانی، ناقص خوراک اور آلودہ سرنجوں کا استعمال بھی شامل ہیں”۔

Check Also

کینسر کے مرض کی جانچ کے لیے ’تشخیصی کِٹ‘ تیار

  برلن: سائنس دانوں نے کینسر کی تشخیص کے لیے ایک کِٹ تیار کرلی ہے جس …